اردوئے معلیٰ

اُنگشت بہ دنداں ہیں فصیحانِ زمانہ

اُنگشت بہ دنداں ہیں فصیحانِ زمانہ

ایسا ہے لبِ یوحٰی کا انداز یگانہ

 

گر خواب میں آجائے وہ من موہنی صورت

پھر نیندسے جاگے نہ کبھی اُن کا دوانہ

 

اُس خاکِ مدینہ کے ہی صدقے یہ نسب ہے

نسبت میں ترابی ہوں یہی میرا خزانہ

 

ایقان ہے محشر میں ملے گی مجھے بخشش

اور مدحِ شہِ کون و مکاں ہو گی بہانہ

 

اس گھر سے ہی تطہیر علو پاتی ہے ہر دم

طیّب ہے مطہّر ہے محمد کا گھرانہ

 

کیوں رشکِ دو عالم نہ ہوں والّیل سی زلفیں

ہے بوسہ مقام اُن کی شہا آپ کا شانہ

 

مَاکُنْتَ تَقُوْلُ ہو نکیرین کے لب پر

اور میرے لبوں پر ہو شہِ دیں کا ترانہ

 

منظر درِ سرکار و صحابہ کا گدا ہوں

اِتنی سی کہانی ہے مری اتنا فسانہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ