اُن سے کرتا ہوں کربِ ہجر بیاں

اُن سے کرتا ہوں کربِ ہجر بیاں

روز دیتا ہے میرا عشق اذاں

 

مخزنِ لطف ہے وہ شہرِ کرم

جس کے صدقے بنے ہیں کون و مکاں

 

حکمِ لَاتَرْفَعُوا کی جا ہے یہی

شور اُن دھڑکنوں کا روک یہاں

 

ہالۂ نور میں ہے شہرِ نبی

سبز گنبد ہے دیکھ نور فشاں

 

خواہشِ دید پیش کیسے کروں

دل لرزتا ہے مثلِ برگِ خزاں

 

حکمِ جاؤک کی اطاعت میں

لے کر آیا ہوں اپنی فردِ زیاں

 

کہکشاں آپ سے ہی روشن ہے

آپ کے دم سے ہے یہ حسنِ جناں

 

ہجر زادے کو اذن دے دیں شہا

دست بستہ ہوا ہے عرض کناں

 

بہرِ تسکیں کرم ہو منظر پر

اُڑنے والا ہو جب یہ طائرِ جاں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ