اردوئے معلیٰ

اُن کی مدحت نے دیا مجھ کو اُجالا ایسا

بس مقدر سے عطا ہوتا ہے رستہ ایسا

 

مَن کے احساس میں روشن ہے مدینہ ہر سُو

تن کی تقدیر میں لکھ دے مرے مولا ایسا

 

آپ کے آنے کی خوشبو کا پیامی بن جائے

دستِ بو صیری سے مانگوں مَیں قصیدہ ایسا

 

دل کی حالت تو ہے ایسے کہ بتائے نہ بنے

سامنے آنکھوں کے ہے کعبے کا کعبہ ایسا

 

زیست کچھ اور نکھر آئی ہے طیبہ جا کر

کام آیا ہے تری خاک کا غازہ ایسا

 

روشنی ساتھ لئے جاتا ہوں سُوئے محشر

ساتھ رکھتا ہوں مَیں نعتوں کا حوالہ ایسا

 

اب کسی قسم کی حاجت نہیں باقی دل میں

قاسمِ رزق نے بخشا ہے نوالہ ایسا

 

بس یہی نعت ہے مقصودؔ کمائی میری

اور تو کچھ بھی نہیں اپنا اثاثہ ایسا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات