اردوئے معلیٰ

اُن کی چوکھٹ کو سدا پیشِ نظر رکھا ہے

دل جھکایا ہے جہاں پر وہیں سر رکھا ہے

 

قلبِ مضطر کا سکوں دیدۂ بے چین کا چین

درِ آقا کے سوا اور کدھر رکھا ہے

 

میری قسمت ہے کہ مولا نے مری قسمت میں

بارہا شہرِ مدینہ کا سفر رکھا ہے

 

شرطِ بخشش درِ سرکار پہ جانا ٹہرا

یہیں خالق نے دعاؤں میں اثر رکھا ہے

 

میرے آقا ہیں مری پشت پناہی کے لئے

ہوں غلام اُن کا تو کس بات کا ڈر رکھا ہے

 

اور کیا مانگیں کہ سرکار کی نسبت دے کر

رب نے ہر کاسۂ امید کو بھر رکھا ہے

 

مدحِ سرکارِ میں پائی وہ حلاوت ہم نے

دل کو خوگر اِسی اک ذکر کا کر رکھا ہے

 

وردِ لب نامِ نبی شام و سحر ہو کہ اسے

حق نے خود باعثِ ہر فتح و ظفر رکھا ہے

 

نعت سرکار کی کہتا ہے کرم سے اُن کے

ورنہ عارف کہاں کیا اُس میں ہُنر رکھا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات