اُن کے دَر پر قبول ہو جائیں

اُن کے دَر پر قبول ہو جائیں

لفظ مِدحت کے پھول ہو جائیں

 

آرزُو ہے کہ ہم مدینے میں

اُن کی راہوں کی دھول ہو جائیں

 

ہم پہ رحمت کی اک نظر آقا

تا کہ ہم با اُصول ہو جائیں

 

دِل میں یہ بات آ کے بیٹھ گئی

ہم فدائے رسول ہو جائیں

 

اے صبا لوٹ کر بتا دینا

جب یہ نعتیں وصول ہو جائیں

 

نعت کے حَرف، حَرف میں آقا

مِرے جذبے حُلُول ہو جائیں

 

اے رضاؔ نعت ہی سُنا دینا

جب کبھی ہم ملول ہو جائیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سوال : حُسن کی دنیا میں دیجیے تو مثال؟
محمدؐ کا حُسن و جمال اللہ اللہ
حُسن کی تشبیہ کے سب استعارے مسترد
جاری ہے فیض شہر شریعت کے بابؑ سے
آئے بیمار جو دَر پر تو شِفا دیتے ہیں
بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ​
مرحبا! رحمت دوامی پر سلام
تاجدار جہاں یا نبی محترم (درود و سلام)
دوستو! نور کے خزینے کا
جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے ، وہ لفظ قرآن ہوگیا ہے