اردوئے معلیٰ

اُٹھو یہ دامنِ دل و دیدہ سمیٹ کر

وہ لوگ جا چکے ہیں تماشا سمیٹ کر

 

اک بار کھل کے روؤں لپٹ کر میں تجھ سے پھر

رکھ آؤں تیرے دل میں یہ دریا سمیٹ کر

 

میرا تو اعتراض فقط ایک رخ پہ تھا

تو جا رہا ہے خواب ہی سارا سمیٹ کر

 

جانا تھا اس کو نیلے حسیں پانیوں کی اور

میری نظر میں رکھ گیا صحرا سمیٹ کر

 

پل بھر میں پھر ہوا کی حدوں تک بکھر گیا

پہلو میں لمحہ بھر ہی رکھا تھا سمیٹ کر

 

میری ضرورتوں کے تو رستے میں اب نہ آ

جاتا ہوں میں کوئی تری دنیا سمیٹ کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات