اردوئے معلیٰ

اُڑتے ہوئے غبار میں اجسام دیکھتے

ہم تھک چکے مناظرِ ابہام دیکھتے

 

اتنی قلیل عمر میں ممکن کہاں کہ لوگ

اتنے شدید درد کا انجام دیکھتے

 

صبحِ فراقِ یار تلک سنگ رہ گیا

اس دل کی رونقوں کو سرِ شام دیکھتے

 

جھپکی ہے آنکھ آج کہ اک عمر ہو گئی

لوحِ ہوا پہ نقش کوئی نام دیکھتے

 

ائے کاش ہم بھی جانکنی کے عذاب میں

اپنا یہ رقصِ مرگ سرِ عام دیکھتے

 

یعنی کہ تم تو دل کے گریباں میں جھانکتے

اس کشتہِ سکوت کے ہنگام دیکھتے

 

یا دھوپ دیکھتی تھی ہمیں رینگتے ہوئے

یا ریگ زارِ وقت کے اہرام دیکھتے

 

پھر پوچھتے کہ رات بھلا کیوں نہیں ہوئی

تم ایک بار وہ شفق اندام دیکھتے

 

رکھنا پڑا ہے رہن فقط اپنے آپ کو

اب کیا تمہارے قرب کے بھی دام دیکھتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات