اُڑتے ہوئے غبار میں اجسام دیکھتے

اُڑتے ہوئے غبار میں اجسام دیکھتے

ہم تھک چکے مناظرِ ابہام دیکھتے

 

اتنی قلیل عمر میں ممکن کہاں کہ لوگ

اتنے شدید درد کا انجام دیکھتے

 

صبحِ فراقِ یار تلک سنگ رہ گیا

اس دل کی رونقوں کو سرِ شام دیکھتے

 

جھپکی ہے آنکھ آج کہ اک عمر ہو گئی

لوحِ ہوا پہ نقش کوئی نام دیکھتے

 

ائے کاش ہم بھی جانکنی کے عذاب میں

اپنا یہ رقصِ مرگ سرِ عام دیکھتے

 

یعنی کہ تم تو دل کے گریباں میں جھانکتے

اس کشتہِ سکوت کے ہنگام دیکھتے

 

یا دھوپ دیکھتی تھی ہمیں رینگتے ہوئے

یا ریگ زارِ وقت کے اہرام دیکھتے

 

پھر پوچھتے کہ رات بھلا کیوں نہیں ہوئی

تم ایک بار وہ شفق اندام دیکھتے

 

رکھنا پڑا ہے رہن فقط اپنے آپ کو

اب کیا تمہارے قرب کے بھی دام دیکھتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آئینہ وجود چلو چور ہو گیا
نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی

اشتہارات