اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے

اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے

تمہارا غم ہی مرا اوڑھنا بچھونا ہے

 

بس ایک پھُول سے لمحے کی آرزو میں ہمیں

تمام عُمر محبت کا بوجھ ڈھونا ہے

 

کہیں کہیں سے ہے شیریں ، کہیں کہیں نمکین

وہ شکر لب جو ذرا سانولا سلونا ہے

 

مری یہ دُھن ہے بطورِ نگاہ دارِ جمال

کہ تجھ کو آنکھ میں ، پھر شعر میں سمونا ہے

 

جو میرا ہو وہ کسی اور کا نہیں رہتا

بس اِتنا جان لے جس کو بھی میرا ہونا ہے

 

جھٹک تو دُوں مَیں اِسے خواب گاہ سے باہر

مگر یہ چاند مری نیند کا کھلونا ہے

 

ہنسی ہنسی میں تجھے الوداع کہہ کے ہمیں

تمام عُمر کہیں چھپ کے رونا دھونا ہے

 

ہوائے شام اگر سازگار ہو تو مجھے

کسی کے دِل میں محبت کا بیج بونا ہے

 

تمہارے میرے علاوہ ہے تیسرا بھی کوئی

تمہارا میرا تعلق عجب تکونا ہے

 

ہنوز پہنچا نہیں ہوں مَیں اُس بلندی تک

جہاں سے گِر کے مجھے پاش پاش ہونا ہے

 

بڑی عجیب سی ہیں میری خواہشیں ، مثلاً

بجائے گُل ترے بالوں میں دِل پرونا ہے

 

تری کلائی میں شیشے کی چوڑیاں ہی سہی

ترا سراپا تو سارے کا سارا سونا ہے

 

ابھی سے تان لِیں یاروں نے چھتریاں فارِس

ابھی تو درد کی رِم جھم نے من بھگونا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں 
معلُوم ھے جناب کا مطلب کچھ اَور ھے
یار کی دستک پہ بھی تُو نے یہ پُوچھا: کون ھے ؟
حسین ہونٹ اگر ہیں تو گال اپنی جگہ
جھوٹا ہوں دھوکے باز ہوں اچھا نہیں رہا
ملتی نہیں منزل تو مقدر کی عطا ہے
خلعتِ خاک پہ ٹانکا نہ ستارہ کوئی
اب بھی ہے یاد مجھ کو پہلی لگن کا جادُو
زیادہ کٹھن ہے ترک ِ نظارہ کے کرب سے
شکستگی ہے مسلسل شکست سے پہلے