اِس سے پہلے کہ کوئی اِن کو چُرا لے، گِن لو

اِس سے پہلے کہ کوئی اِن کو چُرا لے، گِن لو

تُم نے جو درد کیے میرے حوالے، گِن لو

 

چل کے آیا ھُوں، اُٹھا کر نہیں لایا گیا مَیں

کوئی شک ھے تو مرے پاؤں کے چھالے گِن لو

 

جب مَیں آیا تو اکیلا تھا، گِنا تھا تُم نے

آج ھر سمت مرے چاھنے والے گِن لو

 

مکڑیو ! گھر کی صفائی کا سمَے آ پہنچا

آخری بار در و بام کے جالے گِن لو

 

زخم گننے ھیں اگر میرے بدن کے، یاراں

تُم نے جو سنگ مِری سَمت اُچھالے، گِن لو

 

خُود ھی پھر فیصلہ کرنا کہ ابھی دن ھے کہ رات

شوق سے گِن لو اندھیرے، پھر اُجالے گِن لو

 

اب نہیں کرتا کسی پر بھی بھروسہ کوئی

گر نہیں مُجھ پہ یقیں، شہر میں تالے گِن لو

 

مَے کدے میں کئی مشکوک سے لوگ آئے ھیں

ان کو پِلوا دو مگر اپنے پیالے گِن لو

 

تُمہیں کرنی ھے گر احباب کی گنتی فارس

آستینوں میں چُھپے دُودھ کے پالے گِن لو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟
کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے، مجھے عید مِل
تم نے تو یوں بھی مجھے چھوڑ کے جانا تھا ناں؟
ڈھونڈ کر لائے تھے کل دشتِ جنوں کا راستہ
تمام اَن کہی باتوں کا ترجمہ کر کے
سر بسر آنسو، مکمل غم ھوں میں
ایسی تخیلات میں تجریدیت گھلی
پس ِ نقوش بھی میں دیکھنے پہ قادر تھا
کارِ عبث رہی ہیں جنوں کی وکالتیں