اِک بار اُٹھے تھے جو قدم نورِ ہدیٰ کے

 

اِک بار اُٹھے تھے جو قدم نورِ ہدیٰ کے

رستے ہیں منور ابھی تک غارِ حرا کے

 

زرخیز ہوا دشتِ جہاں اُن کے کرم سے

احسان ہیں اُمت پہ فقط اُن کی گھٹا کے

 

ہم بھٹکے ہوئے ذہن کے شاعر ہیں جبھی تو

یہ نعت بھی لکھّی ہے وسیلے سے عطا کے

 

رہتی ہے ہمہ وقت مرے ساتھ یہ تسبیح

سانسوں میں پرویا ہے تجھے ورد بنا کے

 

بخشش سبھی کی ہوگی مجھے اتنا یقیں ہے

قرطاس پہ جو پھول کھلاتے ہیں ثنا کے

 

اُس در سے لگی لو ، تو لگا یوں مجھے اشعرؔ

ہیں گنج مرے ہاتھ میں اِس ارض و سما کے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ