اِک بار اُٹھے تھے جو قدم نورِ ہدیٰ کے

 

اِک بار اُٹھے تھے جو قدم نورِ ہدیٰ کے

رستے ہیں منور ابھی تک غارِ حرا کے

 

زرخیز ہوا دشتِ جہاں اُنؐ کے کرم سے

احسان ہیں اُمت پہ فقط اُنؐ کی گھٹا کے

 

ہم بھٹکے ہوئے ذہن کے شاعر ہیں جبھی تو

یہ نعت بھی لکھّی ہے وسیلے سے عطا کے

 

رہتی ہے ہمہ وقت مرے ساتھ یہ تسبیح

سانسوں میں پرویا ہے تجھے ورد بنا کے

 

بخشش سبھی کی ہوگی مجھے اتنا یقیں ہے

قرطاس پہ جو پھول کھلاتے ہیں ثنا کے

 

اُس در سے لگی لو ، تو لگا یوں مجھے اشعرؔ

ہیں گنج مرے ہاتھ میں اِس ارض و سما کے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ضیائے سدرہ و طوبیٰ و کل جہاں روشن
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
زمیں سے تا بہ فلک ایسا رہنما نہ ملا
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
ہوئے جو مستنیر اس نقشِ پا سے
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
بس قتیلِ لذتِ گفتار ہیں
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

اشتہارات