اِک صنفِ سُخن جس کا تعلق ہے نبی سے

اِک صنفِ سُخن جس کا تعلق ہے نبی سے

صد شکر کہ نسبت ہے طبیعت کو اُسی سے

 

انمول ہیں آنسو بھی کرو قدر کچھ ان کی

دوزخ بھی بجھا سکتے ہو آنکھوں کی نمی سے

 

ہیں عدل کے پیکر سبھی اصحابؓ، نبی کے

اُلفت ہے مسلماں کو بلاشبہ سبھی سے

 

جس طرح اُجالوں کی پرستار ہے دنیا

اے کاش ہو نفرت بھی اسے تیرہ شبی سے

 

ہے نام میں طیبہ کے وہ پیغامِ بہاراں

ہے جس کا تعلق دلِ مؤمن کی کلی سے

 

میں اُن کے غلاموں کے غلاموں میں ہوں احسنؔ

ہے کِیش مرا دُور بہت کج کُلَہِی سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں
ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف
حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
مرے آقاؐ، کرم مُجھ پر خُدارا
آپؐ کے پیار کے سہارے چلوں
نبیؐ کا گُلستاں ہے اور میں ہوں
ذکرِ نبیؐ سے ہر گھڑی معمُور ہوتا ہے
نہیں بیاں کی ضرورت، حضور جانتے ہیں
کمال اسم ترا، بے مثال اسم ترا

اشتہارات