اِک عقیدت کے ساتھ کہتا ہوں

اِک عقیدت کے ساتھ کہتا ہوں

جب بھی میں انؐ کی نعت کہتا ہوں

 

تذکرے کو ترے عبادت میں

پیروی کو نجات کہتا ہوں

 

اُن سے پہلے کا جو زمانہ تھا

میں اُسے کالی رات کہتا ہوں

 

یہ حقیقت ہے اسمِ احمد کو

میں حلِ مشکلات کہتا ہوں

 

جو دیارِ نبی میں آئے اُس

موت کو بھی حیات کہتا ہوں

 

یہ جو ہم تیرےؐ اُمتی ہیں اِسے

تیراؐ احسانِ ذات کہتا ہوں

 

تیریؐ چاہت کو میں حبیبِ خدا

حاصلِ کائنات کہتا ہوں

 

مرتضیٰؔ اپنی نعت گوئی کو

آپؐ کا التفات کہتا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

غمِ حیات سے گرچہ بہت فگار ہوں میں
محمد کے روضے پہ جا کر تو دیکھو
یہ پیغامِ حبیبِ کبریا ہے
سرمایۂ جمال ہے طیبہ کے شہر میں
دہر کے اجالوں کا، جوبن آپ کے عارض
کچھ ایسی لطف و کرم کی ہوا چلی تازہ
حبیب ربُّ العلا محمد شفیعِ روزِ جزا محمد
اب پردہ پردہ پردہِ سازِ جمال ہے
اب کا منشا ہے کہ پھیلے شہِ ابرار کی بات
آمدِ مصطفیٰ مرحبا مرحبا