آئینوں میں ڈھلتے ہیں حجر آپ کے در پر

آئینوں میں ڈھلتے ہیں حجر آپ کے در پر

بنتے ہیں خزف ریزے گہر آپ کے در پر

 

خالی ہی پڑا رہتا ہے اکثر مرا سینہ

دل میرا کیے بیٹھا ہے گھر آپ کے در پر

 

گم ہو تے ہیں جو وادیِ پندار و انا میں

ملتی ہے انھیں اپنی خبر آپ کے در پر

 

جو اہل بصیرت ہیں زمانے میں، سبھی کی

ہر پھر کے ٹھہرتی ہے نظر آپ کے در پر

 

امید گہ شمس و قمر آپ کی چوکھٹ

ہے کاسہ بکف باد سحر آپ کے در پر

 

چل دیکھ کفیل آپ کے در بار کا منظر

ماحول ہے فردوس اثر آپ کے در پر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو
سمایا ہے نگاہوں میں رُخِ انور پیمبر کا
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سکونِ قلب و نظر تھا بڑے قرار میں تھے
خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

اشتہارات