اردوئے معلیٰ

آئینوں میں ڈھلتے ہیں حجر آپ کے در پر

بنتے ہیں خزف ریزے گہر آپ کے در پر

 

خالی ہی پڑا رہتا ہے اکثر مرا سینہ

دل میرا کیے بیٹھا ہے گھر آپ کے در پر

 

گم ہو تے ہیں جو وادیِ پندار و انا میں

ملتی ہے انھیں اپنی خبر آپ کے در پر

 

جو اہل بصیرت ہیں زمانے میں، سبھی کی

ہر پھر کے ٹھہرتی ہے نظر آپ کے در پر

 

امید گہ شمس و قمر آپ کی چوکھٹ

ہے کاسہ بکف باد سحر آپ کے در پر

 

چل دیکھ کفیل آپ کے در بار کا منظر

ماحول ہے فردوس اثر آپ کے در پر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات