اردوئے معلیٰ

 

آئے نظر جو وہ رُخِ قرآن کسی دن

آئینہ بنے دیدۂ حیران کسی دن

 

ہنس ہنس کے نہ دیکھیں مجھے یہ عازمِ طیبہ

نکلے گا مرے دل کا بھی ارمان کسی دن

 

میں آ نہیں سکتا تو حضور آپ بلائیں

احسانوں پر اک اور بھی احسان کسی دن

 

موجوں سے جو ہوتی رہیں سرکار کی باتیں

ساحل پہ مجھے لائے گا طوفان کسی دن

 

یوں ہی رہا جو وردِ زباں نامِ محمد

ہو جائیں گی سب مشکلیں آسان کسی دن

 

ہر ایک َملک کہتا تھا اور روزِ ازل سے

زینت دہِ عرش ہوگا اِک انسان کسی دن

 

سرکار دکھائیں مجھے طیبہ کے نظارے

مر جاؤں نہ در وادیٔ مہران کسی دن

 

حسّان کے صدقے میں صبیحؔ جگر افگار

بن جاؤں گا میں نائبِ حسّان کسی دن

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات