اردوئے معلیٰ

!آبرو دار دربدر، سائیں

!ہے کٹھن ذیست کا سفر، سائیں

 

مر نہ جاؤں میں بے قضا پل میں

!تجھ سے ٹھہروں جو بے خبر سائیں

 

اشہبِ وقت کب ٹھہرتا ہے

!عمر بھی اتنی مختصر، سائیں

 

ہم ادھر سے تو ہو لیے عاجز

!اب بلاؤ کبھی اُدھر، سائیں

 

زینؔ باقی گزارتا کیسے

!راس آیا نہیں شہر، سائیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات