اردوئے معلیٰ

آبلے ، مٹی ،پسینہ ،جیسے ویرانوں کا بوجھ

آبلے ، مٹی ،پسینہ ،جیسے ویرانوں کا بوجھ

آسماں سے بھی فزوں، مزدور کے شانوں کا بوجھ

 

ناتواں قلب و نظر پر اتنے کا شانوں کا بوجھ

بتکدوں کا ،میکدوں کا اور پری خانوں کا بوجھ

 

حاملِ بارِ گِراں ہے اک اجیرِ ناتواں

لیکن آجر کیلئے ،مٹھی میں دو دانوں کا بوجھ

 

آج کے گل آج ہی کی نکہتوں کے ہیں امین

کل یہ باسی پھول کہلائیں گے، گلدانوں کا بوجھ

 

میں کسے تائب کہوں ،کس کو کہوں توبہ شکن

لوگ پھرتے ہیں لیے اب خالی پیمانوں کا بوجھ

 

ٹانک آئے گا کہیں دیروحرم کے درمیاں

ہے گراں اب شیخ پر تسبیح کے دانوں کا بوجھ

 

دل کے ارمانوں کی اب دل پر حکومت ہے ضیاؔ

ایک کشور، اور اُس پر اتنے سلطانوں کا بوجھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ