آتا ہے یاد شاہِ مدینہ کا در مجھے

آتا ہے یاد شاہِ مدینہ کا در مجھے

مل جائے شہرِ نور کا رختِ سفر مجھے

 

جاؤ درِ نبی پہ اگر کر چکے خطا

بتلا دیا کریم نے بابِ اثر مجھے

 

اللہ اس کو دونوں جہاں میں قرار دے

جس نے ربیعِ نور کی دی ہے خبر مجھے

 

روشن کروں گا سارے زمانے کو نعت سے

لفظوں کے دیجئے گا منور گہر مجھے

 

جس وقت میں حضور کے روضے کے پاس تھا

تکتے تھے چشمِ رشک سے شمس و قمر مجھے

 

مجھ پر ہوا ہے خالقِ کونین کا کرم

توصیفِ مصطفیٰ کا ملا ہے ہنر مجھے

 

ہر وقت میں تصورِ آقا میں ہوں مگن

کثرت سے مل رہا ہے ثناء کا ثمر مجھے

 

اشفاقؔ میں گدا ہوں شہِ دو جہان کا

ملتی ہے بھیک جود کی آٹھوں پہر مجھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ