اردوئے معلیٰ

Search

آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا

سُن کر وہ مجھے پاس بُلائیں تو عجب کیا

 

ان پر تو گنہگار کا سب حال کھُلا ہے

اِس پر بھی وہ دامن میں چھپائیں تو عجب کیا

 

منہ ڈھانپ کے رکھنا کہ گنہگار بہت ہوں

میّت کو میری دیکھنے آئیں تو عجب کیا

 

اے جوشِ جنوں پاسِ ادب بزم ہے جن کی

اس بزم میں تشریف وہ لائیں توعجب کیا

 

دیدار کے قابل تو نہیں چشمِ تمنّا

لیکن وہ کبھی خواب میں آئیں تو عجب کیا

 

پابندِ نوا تو نہیں فریاد کی رسمیں

آنسو یہ مرا حال سنائیں تو عجب کیا

 

نے زادِ سفر ہے نہ کوئی کام بھلے ہیں

پھر بھی مجھے سرکار بلائیں تو عجب کیا

 

حاصل جنہیں آقا کی غلامی کا شرف ہے

ٹھوکر سے وہ مُردوں کو جِلائیں تو عجب کیا

 

وہ حسنِ دو عالم ہیں ادیبؔ ان کے قدم سے

صحرا میں اگر پھول کھِل آئیں تو عجب کیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ