اردوئے معلیٰ

Search

 

آج بھی پلکوں پہ لرزاں ہجر کا تلخاب ہے

جانے کب تقدیر میں دیدار کا نوشاب ہے

 

تیرے دم سے رونقِ کونین ہے یا مصطفیٰ

خاکِ طیبہ تیری نسبت سے ہوئی زرناب ہے

 

اس کی آنکھوں کو فرشتے دیکھنے آتے رہے

جس کی آنکھوں میں مدینے کی گلی کا خواب ہے

 

بے شبہ میرا نبی ہے رونقِ بزمِ جہاں

منبعِ انوار ہے خورشیدِ عالم تاب ہے

 

آج بھی غارِ حرا تکتی ہے رستہ آپ کا

مضطرب، بے چین، بے کل آج بھی محراب ہے

 

اس طرف مقبول ہوگا حج و عمرہ آپ کا

شہرِ طیبہ کا اشارہ دے رہا میزاب ہے

 

یا نبی، اشفاقؔ نامی ایک شاعر نعت گو

آپ کے در کی حضوری کے لئے بےتاب ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ