آمدِ خیرالواریٰ حق مرحبا صد مرحبا

آمدِ خیرالواریٰ حق مرحبا صد مرحبا

نائبِ رب العلی حق مرحبا صد مرحبا

 

تاجدارِ انبیاء حق مرحبا صد مرحبا

شہنشاہِ دوسرا حق مرحبا صد مرحبا

 

کہکشائیں بھی منور ہو گئیں ہیں نور سے

آمدِ نورِ خدا حق مرحبا صد مرحبا

 

ہر زمانہ جن کے آنے کی خبر دیتا رہا

آ گئے وہ رہنما حق مرحبا صد مرحبا

 

بارہ کی صبحِ بہاراں ہے جہاں پُر نور ہے

گونجتی ہے یہ صدا حق مرحبا صد مرحبا

 

کیا زمیں ہے آسماں پر بھی صدائیں اے رضاؔ

آ گئے فخر الہدیٰ حق مرحبا صد مرحبا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اُنؐ کے رستوں کی گردِ سفر مانگنا
مری اوقات کیا ہے اور کیا میری حقیقت ہے
مری زبان پہ ان کی ہے گفتگو اب تک
سطوتِ شاہی سے بڑھ کر بے نوائی کا شرَف
اے جانِ نِعَم ، نقشِ اَتَم ، سیدِ عالَم
مرا دل تڑپ رہا ہے
بنایا ہے حسیں پیکر خدا نے مشک و عنبر سے
ان کے در کا جس گھڑی سے میں گداگر ہوگیا
ارض و سما میں جگمگ جگمگ لحظہ لحظہ آپ کا نام
وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں