آمد زمین پر شہِ خیر الاانام ہے

آمد زمین پر شہِ خیر الاانام ہے

انس و ملک کے لب پہ محمدؐ کا نام ہے

 

اے آمنہ سلام ہوں تجھ پر سلام ہوں

خیرالبشر کی ماں کا مِلا جو مقام ہے

 

صلے علیٰ کا ورد فرشتوں کے لب پہ ہے

آیا سبھی رسولوں کا دیکھو امام ہے

 

جو بھیجتا رہے مرے سرکارؐ پر درود

دوزخ کی آگ اس کی زباں پر حرام ہے

 

میں اس لیے ہوں شعر کے موتی پرو رہا

نعتِ نبیؐ سے بڑھ کے نہ کوئی کلام ہے

 

جبریل اب ٹھہر کے یہیں انتظار کر

رب سے وہ ذاتِ شاہِ امم ہم کلام ہے

 

رب سے عطا کہوں گا ادب سے بروزِ حشر

در پر ترے، حضورؐ کے در کا غلام ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
نہیں ہے منگتا کوئی بھی ایسا کہ جس کا دامن بھرا نہیں ہے
واحسن منک لم ترقط عینی
شکر صد شکر کہ رہتی ہے مجھے یاد مدینہ
وہ کہ ہیں خیرالا نام
خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
خالق عطا ہو صدقہ محمد کے نام کا
واحد ہے تو تنہا ہے، تو ذات میں یکتا ہے
گدا کو دید کا شربت پلا دو یا رسول اللہ
جو بھی فدائی شہِ کون ومکاں ہوا

اشتہارات