اردوئے معلیٰ

آپ شہِ ابرار ہوئے ہیں

آپ شہِ ابرار ہوئے ہیں

دو جگ کے سردار ہوئے ہیں

 

ان کی اطاعت کرنے والے!

جنت کے حقدار ہوئے ہیں

 

ان کی رحمت ڈھال بنی ہے

جب بھی مجھ پر وار ہوئے ہیں

 

دور ہوئے جو ان کے در سے

در در یونہی خوار ہوئے ہیں

 

جو ہیں بھکاری ان کے نگر کے

کس نے کہا نادار ہوئے ہیں

 

جس دم ان کی نعت پڑھی ہے

رحمت کے آثار ہوئے ہیں

 

جن رستوں سے گزرے آقا

کتنے خوشبودار ہوئے ہیں

 

قدموں میں جو ان کے سوئے

بخت ان کے بیدار ہوئے ہیں

 

جونہی نام لیا ہے ان کا

پَل میں پُل سے پار ہوئے ہیں

 

یہ ہے کرم سرکار کا آصف

نعت کے جو اشعار ہوئے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ