اردوئے معلیٰ

Search

آپ کا جوں ہی ہونٹوں پہ نام آئے گا

مشکلوں کا وہیں اختتام آئے گا

 

دل میں حسرت ہے میرے یہ شام و سحر

کب مدینے سے مجھ کو پیام آئے گا

 

جس کا سرکار پر ہو چکا ہے نزول

تا قیامت نہ ایسا کلام آئے گا

 

مقتدی جس کے اقصیٰ میں تھے انبیا

بعد ان کے نہ ایسا امام آئے گا

 

آپ کے عشق میں جو تڑپتا رہے

اس کے ہاتھوں میں کوثر کا جام آئے گا

 

پھر چٹکتی رہے گی وہاں چاندنی

جب لحد میں وہ ماہِ تمام آئے گا

 

دامنِ مصطفی تھام لو عاصیو!

حشر میں یہ وسیلہ ہی کام آئے گا

 

عرض کرتا ہے آصف یہی رات دن

آپ کے در پہ کب یہ غلام آئے گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ