اردوئے معلیٰ

آپ کی آنکھیں اگر شعر سُنانے لگ جائیں

آپ کی آنکھیں اگر شعر سُنانے لگ جائیں

ھم جو غزلیں لیے پھرتے ھیں ٹھکانے لگ جائیں

 

ہم اگر روز بھی اک یاد بُھلانے لگ جائیں

تیری یادوں کو ُبھلانے میں زمانے لگ جائیں

 

ھم تہی ظرف نہیں ھیں کہ محبت کر کے

کسی احسان کے مانند جتانے لگ جائیں

 

ہائے وہ بے چارگیٔ عشق کہ وہ پتھر دل

ٹھوکریں مارے تو ہم پاؤں دبانے لگ جائیں

 

سُست اتنا ہوں کہ بن تیر چلائے چاہوں

کہ مرے تیر پہ خود آ کے نشانے لگ جائیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ