آپ کی آنکھیں اگر شعر سُنانے لگ جائیں

آپ کی آنکھیں اگر شعر سُنانے لگ جائیں

ھم جو غزلیں لیے پھرتے ھیں ٹھکانے لگ جائیں

 

ہم اگر روز بھی اک یاد بُھلانے لگ جائیں

تیری یادوں کو ُبھلانے میں زمانے لگ جائیں

 

ھم تہی ظرف نہیں ھیں کہ محبت کر کے

کسی احسان کے مانند جتانے لگ جائیں

 

ہائے وہ بے چارگیٔ عشق کہ وہ پتھر دل

ٹھوکریں مارے تو ہم پاؤں دبانے لگ جائیں

 

سُست اتنا ہوں کہ بن تیر چلائے چاہوں

کہ مرے تیر پہ خود آ کے نشانے لگ جائیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب خزاں آئے تو پتّے نہ ثَمَر بچتا ھے
لرزتے جسم کا بھونچال دیکھنے کے لیے
جہانِ فن میں دُور دُور تک برائے نام ہو
وہ میرے پاس آ کے حال جب معلوم کرتے ہیں
باجرے کی جو اک خشک روٹی ملی
جس شہر میں سحر ہو وہاں شب بسر نہ ہو
قدم قدم تے پِیڑ وے عشقا
کوہ و دامان و زمین و آسماں کچھ بھی نہیں
کوئی مثال ہو تو کہیں بھی کہ اس طرح
میرا اظہارِ محبت اُسے ناکافی ہے