آ گئے شَہ سوار بسم اللہ

آ گئے شَہ سوار بسم اللہ

مِل گیا ہے قرار بسم اللہ

 

ساتھ لائے وہ رحمتِ عالم

آیتِ کِردگار بسم اللہ

 

غار میں آپ نے قدم رکھا

جھوم کر بولا غار بسم اللہ

 

خُلد والوں کے فخر دُنیا میں

آپ کے سارے یار بسم اللہ

 

اُن کا دَر چوم کر صبا آئی

کِھل اُٹھے لالہ زار بسم اللہ

 

اُن کی تبلیغ سے ہی پایا ہے

آدمی نے وقار بسم اللہ

 

کامرانی مِلے گی، اپنا لو

اُن کے جیسا شِعار بسم اللہ

 

مشکلیں جان چھوڑ جائیں گی

دِل سے اُن کو پکار بسم اللہ

 

دِل کی حسرت ہے پیش منظر میں

ہو نبی کا دیار بسم اللہ

 

کوئی اچھا ہے یا بُرا سب سے

ہے رضاؔ اُن کو پیار بسم اللہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سرکارؐ کے کرم سے یہ فیضانِ نعت ہے
میرے دل میں ہے یادِ محمدؐ میرے ہونٹوں پہ ذکرِ مدینہ
کرم کی چادر مِرے پیمبر
درِ نبی پہ مقدر جگائے جاتے ہیں
انداز کریمی کا نِرالا نہیں گیا
رسولِ محترم ختم‌النبیّین
لبوں پہ جب بھی درود و سلام آتا ہے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
آپ کی یادوں سے جب میری شناسائی ہوئی
کس کا جمال ناز ہے جلوہ نما یہ سو بسو