اٹھی ہے جن کی جانب بھی نگاہِ ناز بسم اللہ

اٹھی ہے جن کی جانب بھی نگاہِ ناز بسم اللہ

انہی کے ہی مُقدّر میں ہے فوز و فاز بسم اللہ

 

ترِی رفعت کا اندازہ کسی کو ہو بھی تو کیسے

کہ سدرہ سے بھی آگے ہے تری پرواز بسم اللہ

 

وہ او ادنیٰ کی قُربت سے مشرّف آپ کا ہونا

شبِ اسری مرے آقا ! ملا اعزاز بسم اللہ

 

مرے آقا کی مدحت میں کھلے ہیں لب تو فوراً ہی

کرم کا بے ہنر پر بھی ہوا آغاز بسم اللہ

 

دلوں کو چین آتا ہے اسی لمحے مرے آقا!

مدینے میں اترتی ہے جو نہی پرواز بسم اللہ

 

معافی ہو تو جائے گی مگر جَاؤوک ہے رستہ

کہ اس کو بھی تو ہے محبوب یہ انداز بسم اللہ

 

دہانے غار پر جا کر کھڑے تھے جب مرِے آقا

پکاری غار بسم اللہ ،مرے مہ ناز بسم اللہ

 

جلیل اس لفظ میں رب نے رکھی ہیں برکتیں ساری

کہا سرکار نے جس کا ہوا آغاز بسم اللہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ