اپنوں نے بھی منّت کی، غیروں نے بھی سمجھایا

اپنوں نے بھی منّت کی، غیروں نے بھی سمجھایا

کرنا تھا جو اِس دل نے کیا، باز نہیں آیا

 

نالہ کبھی کھینچا ہے، تو گیت کبھی گایا

نازِ شبِ ہجراں تو کسی طور نہ اُٹھ پایا

 

دیکھا تھا کبھی جس کی گلیوں میں اُسے دل نے

چلتے ہی رہے ہم تو وہ شہر نہیں آیا

 

آوارگی میری ہے رستے کے مقدر میں

اور میرے مقدر میں ہر منزلِ بے سایا

 

غزلوں میں فسانوں میں کس شخص کی باتیں ہیں؟

ہم نے تو بہت ڈھونڈا، دیکھا نہ کہیں پایا

 

جب یاد کوئی آئی، ہم روئے اکیلے میں

جب روئے اکیلے میں، تو یاد کوئی آیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ