اردوئے معلیٰ

اپنی اوقات کہاں، ان کے سبب سے مانگوں

رب ملا ان سے تو کیوں ان کو نہ رب سے مانگوں

 

ان کی نسبت ہے بہت ان کا وسیلہ ہے بہت

کیوں میں کم ظرف بنوں بڑھ کے طلب سے مانگوں

 

جس ضیا سے صدا جگ مگ ر ہے دنیا من کی

اس کی ہلکی سی رمق ماہِ عرب سے مانگوں

 

آندھیاں جس کی حفاظت کو رہیں سرگرداں

پیار کا دیپ وہ بازارِ ادب سے مانگوں

 

کوئی اسلوب سلیقہ نہ قرینہ مجھ میں

سوچتا ہوں انھیں کسی طور سے، ڈھب سے مانگوں

 

کارواں نعت کا اے کاش رواں یوں ہی رہے

اور میں نِت نئے عنوان ادب سے مانگوں

 

آسؔ آباد رہے شہر مری الفت کا

ہر گھڑی اس کی خوشی دستِ طلب سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات