اپنی مخلوق پر نظر مولا!!

اپنی مخلوق پر نظر مولا

تو کہ خالق ہے سب جہانوں کا

 

دل پریشاں کبھی جو ہوتا ہے

نام تیرا ہے حوصلہ دیتا

 

ہاتھ تیرا ہے پشت پر میری

کیا بگاڑے گا پھر کوئی میرا

 

اپنے محبوب کے وسیلے مری

سب خطائیں معاف کر دینا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمین و آسماں گُونجے بیک آواز، بسم اللہ
اَلحَمَّد توں لے کے وَالنَّاس تائیں​
اَزل سے یہی ایک سودا ہے سر میں
میری بس ایک آرزو چمکے
سخی داتا نہ کوئی تیرے جیسا
کرو رب کی عبادت، خدا کا حکم ہے یہ
تو خبیر ہے تو علیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے
محبت کا نشاں ہے خانہ کعبہ
خدا ہی مرکزِ مہر و وفا ہے
کہوں میں حمدِ ربّی کس زباں سے