اردوئے معلیٰ

اپنے آہنگ سے جدا نہ بنا

اپنے آہنگ سے جدا نہ بنا

میری تصویر کو نیا نہ بنا

 

غم کی ترسیل ہے بجا لیکن

میری آنکھوں کو بھیگتا نہ بنا

 

تو بنا شوق سے مری آنکھیں

اپنی آنکھوں کو آئنہ نہ بنا

 

مجھ کو جلنے دے اپنی آگ میں بس

تو سرھانے مرے دیا نہ بنا

 

خاک رکھ دی ہے چاک پر تیرے

تیری مرضی ہے اب بنا نہ بنا

 

تو کسی اور دھن میں رقصاں ہے

میری وحشت کو تجربہ نہ بنا

 

میں نگاہوں میں آ چکا ہوں، مجھے

دائرہ کر لے ، زاویہ نہ بنا

 

میری منزل بس اک مسافر ہے

تو کوئی اور راستہ نہ بنا

 

عشق ہے ، بندگی نہیں، سو اُسے

شاہ زادی بنا ، خدا نہ بنا

 

مجھ کو دل چاہے آئینہ کر لے

اس میں تُو عکس دوسرا نہ بنا

 

سرخ یادوں کی دھوپ میں قیصر

زرد سوچوں کا زاویہ نہ بنا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ