اپنے بھاگ جگانے والے کیسے ہوں گے

اپنے بھاگ جگانے والے کیسے ہوں گے

اُن سے ہاتھ ملانے والے کیسے ہوں گے

 

نقشِ قدم میں چاند ستارے بکھرے ہیں

جادۂ عرش پہ جانے والے کیسے ہوں گے

 

چشمِ لطف سے ذرّے ، سورج چاند ہوئے

راہوں میں بچھ جانے والے کیسے ہوں گے

 

اشک کے جگنو کالی شب کو نور کریں

دل میں دیے جلانے والے کیسے ہوں گے

 

بھینی بھینی خوشبو سے گھر مہکا ہے

شب کو خواب میں آنے والے کیسے ہوں گے

 

اک اک سانس میں سَو سَو بار فداِ ہونا

وہ گھر بار لٹانے والے کیسے ہوں گے

 

جن کے ناز اٹھانے پر ہو حق کو ناز

اُن کے ناز اٹھانے والے کیسے ہوں گے

 

سِدرہ ، رُوح القدس کی بھی حدِ پرواز

اُس سے آگے جانے والے کیسے ہوں گے

 

دردِ محبت دل میںر کھ کر کیا پھرنا

درد میں جاں سے جانے والے کیسے ہوں گے

 

نعت وہی ہے مسلمؔ جو مقبول ہوئی

چادرِ خلعت پانے والے کیسے ہوں گے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محمد مصطفیٰ کا آستاں ہے
شہرطیبہ کے دروبام سے باندھے ہوئے رکھ
جان و ایماں سے بڑھ کے پیارا ہے
مٹا دل سے غمِ زادِ سفر آہستہ آہستہ
سنہرے موسم
سلام اے محمد! ، اے احمد! ، اے حامد!​
مرے خدا کو جو پیارا ہے یارسولؐ اللہ
ہے حبیب رب کا مرا نبیؐ وہ جہانِ جشن میں روشنی
رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بُو پسند
مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے

اشتہارات