اردوئے معلیٰ

Search

اپنے گھر ، اپنی دھرتی کی آس لئے بو باس لئے

جنگل جنگل گھوم رہا ہوں جنم جنم کی پیاس لئے

 

جتنے موتی ، کنکر اور خذف تھے اپنے پاس لئے

میں انجانے سفر پر نکلا ، مدھر ملن کی آس لئے

 

کچی کاگر پھوٹ نہ جائے ، نازک شیشہ ٹوٹ نہ جائے

جیون کی پگڈنڈی پر ، چلتا ہوں یہ احساس لئے

 

وہ ننھی سی خواہش اب بھی دل کو جلائے رکھتی ہے

جس کے تیاگ کی خاطر میں نے کتنے ہی بن باس لئے

 

سوچ رہی ہے کیسے آشاؤں کا نشیمن بنتا ہے

من کی چڑیا تن کے دوارے بیٹھی چونچ میں گھاس لئے

 

جب پربت پر برف گرے گی سب پنچھی اُڑ جائیں گے

جھیل کنارے جا بیٹھیں گے اک انجانی پیاس لئے

 

چھوڑ کے سنگھرشوں کے جھنجٹ ، توڑ کے آشا کے رشتے

گوتمؔ برگد کے سائے میں بیٹھا ہے سنیاس لئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ