اردوئے معلیٰ

اپنے ہر درد کا درمان بنائے رکھا

اپنے ہر درد کا درمان بنائے رکھا

غم اک ایسا تھا کہ سینے سے لگائے رکھا

 

پاسِ ناموسِ مسیحا تھا مجھے درپردہ

زخمِ جاں سوز کو مرہم سے بچائے رکھا

 

ایک اندیشۂ ناقدریِ عالَم نے مجھے

عمر بھر چشمِ زمانہ سے چھپائے رکھا

 

کبھی جانے نہ دیا گھر کا اندھیرا باہر

اک دیا میں نے دریچے میں جلائے رکھا

 

دیکھ کر برہنہ پا راہ کے کانٹوں نے مجھے

رشکِ گلشن مرے رستے کو بنائے رکھا

 

اصل کردار تماشے کے وہی لوگ تو تھے

وقت نے جن کو تماشائی بنائے رکھا

 

دیکھ سکتا تھا بہت دور تک آگے میں ظہیرؔ

جب تک اِن شانوں پہ بچوں کو اٹھائے رکھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ