اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

اپنے ہر درد کا درمان بنائے رکھا

اپنے ہر درد کا درمان بنائے رکھا

غم اک ایسا تھا کہ سینے سے لگائے رکھا

 

پاسِ ناموسِ مسیحا تھا مجھے درپردہ

زخمِ جاں سوز کو مرہم سے بچائے رکھا

 

ایک اندیشۂ ناقدریِ عالَم نے مجھے

عمر بھر چشمِ زمانہ سے چھپائے رکھا

 

کبھی جانے نہ دیا گھر کا اندھیرا باہر

اک دیا میں نے دریچے میں جلائے رکھا

 

دیکھ کر برہنہ پا راہ کے کانٹوں نے مجھے

رشکِ گلشن مرے رستے کو بنائے رکھا

 

اصل کردار تماشے کے وہی لوگ تو تھے

وقت نے جن کو تماشائی بنائے رکھا

 

دیکھ سکتا تھا بہت دور تک آگے میں ظہیرؔ

جب تک اِن شانوں پہ بچوں کو اٹھائے رکھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے
چاہے آباد ہوں، چاہے برباد ہوں، ہم کریں گے دعائیں تمھارے لئے
کوئی نہیں ھے یہاں جیسا خُوبرُو تُو ھے
مِرا تماشہ ہوا بس تماش بینو! اُٹھو
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
کتنے چراغ جل اٹھے، کتنے سراغ مل گئے
دُھوپ میں جیسے پھول ستارہ لگتا ہے
خواب کدھر چلا گیا ؟ یاد کہاں سما گئی ؟
عمر بس اعداد کی گنتی سے بڑھ کر کچھ نہیں
جو دل دھڑک رہے تھے وہ دف بھی نہ ہو سکے