اردوئے معلیٰ

اکابر شہر، شہر اعظم کے وہ امیرانِ کفر

اکابر شہر، شہر اعظم کے وہ امیرانِ کفر
بیت الحرم کے صحن عظیم میں اپنے تین سو ساٹھ
دیوتاؤں کے روبرو سر جھکائے،
رب عظیم کی عظمتوں سے غافل کھڑے تھے لیکن
جب آسمانی صحیفۂ آخریں کا ایک ایک حرف ان کی سماعتوں میں
ہدایتوں کا پیام بن کر اتر رہا تھا
تو ہر طرف اک خموش اور بے صدا فضا کا تقدس
ان کے دلوں میں ایمان کی حرارت جگا رہا تھا
نبی اعظم کی صدق گفتار، حق بیاں، خوش نوا زباں سے
نکلنے والا ہر ایک لفظ ان کے ذہن و دل کو نئے زمانوں میں
کھلنے والی حقیقتوں کا نیا ہی مژدہ سنا رہا تھا
حریم اقدس کے صحن کا وہ ہجوم خاموش تھا
سوائے خدا کے پیارے رسول کی دلنشیں صدا کے،
کوئی صدا صحن بیت اعلیٰ میں اٹھ نہ پائی
کہ سب کے ہونٹوں پہ جیسے اک مہر خامشی تھی
کہ سب وہاں گوش بر صدا تھے
نبی معبود سورہ والضحیٰ کی روشن صفات چند آیتوں کو پڑھ کر
اس آیت دلنشیں پہ پہنچے کہ:
’’ ہم نے تجھ کو یتیم پا کر پناہ دی
اور بے خبر پا کے راستے کا پتہ بتایا’’
ہجوم میں ایک شخص کے ہونٹ تھرتھرائے
مگر رسول عظیم کے دلنشیں لبوں پر
اس اگلی آیت کا ورد اترا :
’’تجھے کثیر العیال اور تنگ دست پایا تو (ہم نے)تجھ کو غنی بنایا’’
ہجوم میں سے اچانک اس شخص نے پکارا:
’’اے ابن عبداللہ! دیکھ تیرا خدا بھی کتنا عجیب ہے
وہ خدا کہ جس کی صفات تیری زباں سے اکثر سنیں
کہ وہ سب خداؤں کا بھی خدا ہے، سب سے بڑا ہے،
اس سا کوئی نہیں ہے، وہ اک خدا ہے، عظیم ہے،
کائنات اس نے بنائی ہے،
سب کو اس نے پیدا کیا ہے،
سب کا وہ رب ہے، خالق ہے اور
احسان میں بھی سب سے عظیم تر ہے
وہی خدا اَب تجھی پہ احساں جتا رہا ہے
ذرا بتاؤ تو ، ابن عبداللہ !
کوئی صاحب صفات یا کوئی عام انساں
کسی پہ احسان کر کے جتلائے گا؟
کہ تیرا خدا، جو تیرے بقول سب سے عظیم ہے، بے نیاز ہے،
اس نے مال و زر سے تجھے نوازا ہے،
گو ہمیں یہ خبر ہے، بس تیرے پاس اک بوریا ہے،
مٹی کا اک پیالہ ہے،
اس سے بڑھ کر اگر ترے پاس کچھ ہے
جو تیرے رب نے تجھ کو دیا ہے
وہ بار بار تجھ کو جتا رہا ہے؟
عجیب تیرا خدا ہے، احسان کر کے تجھ پر، جتانے والا‘‘
یہ سن کے سب کو زباں درازی کا حوصلہ مل گیا،
سبھی یک زباں پکارے :
’’بتاؤ قاسم کے باپ! تیرا خدا یہی ہے؟
تری حقیقت، تری تہی دامنی کا احساس دینے والا خدا وہ تیرا
عظیم بھی، تنگ چشم بھی ہے‘‘
یہ لہجہ زہریلا اور چبھتا ہوا یہ طنز ایسا تھا
کہ ہر سو بس ایک ہی شور تھا
’’بتاؤ تو ابن عبداللہ، اے ابو قاسم !
اے امین ، اے خدائے واحد کے ماننے والے !
اب کہو، کیا یہی ہے اہل کرم کا شیوہ
کہ وہ کسی کی مدد کریں تو پھر اس پر احسان بھی جتائیں’’
نبی حق نے ان اعتراضات کو سنا
اور اس سے پہلے کہ کوئی ان کو جواب دیں،
اک طرف ہٹے اور صحن کعبہ میں رب کعبہ کی
بارگاہ جلال میں اپنا سر جھکایا
پھر ایک سجدے، طویل سجدے کے بعد جب اپنا سر اٹھایا
تو آپ بولے:
تمہارے اس اعتراض پر مجھ پہ رب واحد کا شکر واجب تھا،
شکر ہے، صد ہزار شکر اُس خدا کا جو
میرے اور تمہارے دلوں کا سب حال جانتا ہے
مجھے یہ ہرگز خبر نہیں تھی کہ تم خدائے عظیم کی آیتوں پہ
یوں معترض بھی ہو گے !
سو، اب یہ سن لو !
مرا عظیم و جلیل مولا تمہارے اس اعتراض کو جانتا تھا
اس نے اسی لیے ان عظیم آیات میں
تمھیں یہ جواب پہلے ہی دے دیا ہے
سنو ! خدائے عظیم و جبار کا یہ فرمان بھی سنو، اس نے کیا کہا ہے
کہ ’’ تو بھی (ہرگز) یتیم کے ساتھ (اب) نہ سختی سے پیش آنا
(کسی) سوالی کو مت جھڑکنا
اور اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بھی ذکر کرتے رہنا’’
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ