اکڑتا پھرتا ہوں میں جو سارے جہاں کے آگے

اکڑتا پھرتا ہوں میں جو سارے جہاں کے آگے

تو راز یہ ہے کہ روز جُھکتا ہوں ماں کے آگے

 

وہ ٹال دیتا ہے ایک سورج کی اشرفی پر

اگرچہ روتا ہوں رات بھر آسماں کے آگے

 

ہوا چلی ، بال اُڑے ، دکھائی دیا وہ ماتھا

بزرگ بھی جُھک گئے پھر اُس نوجواں کے آگے

 

سکوت اُس کا بلیغ تر تھا مرے سُخن سے

سو ہو گیا میں گنگ اُس خوش بیاں کے آگے

 

مجھے بتا دی گئی ہے آئندگاں کی قسمت

سو روز روتا ہوں خواب میں رفتگاں کے آگے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اب کہاں دستِ حنائی ہے کہ جو رنگ بھرے
شوق اب وحشت میں داخل ہو رہا ہے
اگرچہ روزِ ازل سے ہے میرا فن لکھنا
تم نہ عریاں ہوئے غنیمت ہے
اٹکا ہے بڑی دیر سے خوش فہم کا دم بھی
دشتِ ویران میں آوازِ جرس باقی ہے
اُڑے ہیں ہوش مرے میں ہوں غرقِ بادۂ ناب
وہ جب سے بدگمان و سرگراں معلوم ہوتے ہیں
ہم پہ واضح ہے، مشرِّح ہے، عیاں ہے زندگی
منزلِ صبر سے فریاد و فغاں تک پہنچے