اک حدِ اعتدال پہ لرزاں ہے دیر سے

اک حدِ اعتدال پہ لرزاں ہے دیر سے

وہ زندگی کہ مثلِ شرر ناچتی پھری

 

رہرو تو رقص کرتے ہوئے جان سے گئے

اک عمر گردِ راہ گذر ناچتی پھری

 

بے خواب تھی جو آنکھ، مگر لگ نہیں سکی

لوری کی دھن پہ گرچہ سحر ناچتی پھری

 

سیماب ہو کے گھل گئے پاؤں تو دھوپ میں

پائل تھی بے قرار ، مگر ناچتی پھری

 

ہم خاک زادگان ہی مصروفِ نے نہ تھے

اک بنتِ آسمان ، اُدھر ناچتی پھری

 

گردش تھمی نہیں تھی کہ پھر داد مل گئی

اور یوں حیات بارِ دگر ناچتی پھری

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟
کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے، مجھے عید مِل
زخم ، بھر بھی جائے توکتنا فرق پڑتا ہے؟
نہ سُنی تم نے ، کوئی بات نہیں
خلعتِ خاک پہ ٹانکا نہ ستارہ کوئی
اب بھی ہے یاد مجھ کو پہلی لگن کا جادُو
ممکن ہوا نہ لوٹ کے آنا کبھی مجھے
مدفون مقابر پہ تحاریر کی صورت
ملول میں بھی ہوں ، تو بھی ہے اور شاعری بھی

اشتہارات