اردوئے معلیٰ

اک حدِ اعتدال پہ لرزاں ہے دیر سے

وہ زندگی کہ مثلِ شرر ناچتی پھری

 

رہرو تو رقص کرتے ہوئے جان سے گئے

اک عمر گردِ راہ گذر ناچتی پھری

 

بے خواب تھی جو آنکھ، مگر لگ نہیں سکی

لوری کی دھن پہ گرچہ سحر ناچتی پھری

 

سیماب ہو کے گھل گئے پاؤں تو دھوپ میں

پائل تھی بے قرار ، مگر ناچتی پھری

 

ہم خاک زادگان ہی مصروفِ نے نہ تھے

اک بنتِ آسمان ، اُدھر ناچتی پھری

 

گردش تھمی نہیں تھی کہ پھر داد مل گئی

اور یوں حیات بارِ دگر ناچتی پھری

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات