اردوئے معلیٰ

Search

اک کربِ لا دوا ہے کہ جاں چھوڑتا نہیں

اب کے بجز گریز ، کوئی راستہ نہیں

 

جانے یہ ہجر کون سے محشر میں لے چلے

تجھ پر مجھے یقین ہے ، اپنا پتہ نہیں

 

ٹھوکر نہ کھا ، جلا کے مرے خواب پھونک دے

اس تیرگی میں اور تو کچھ سوجھتا نہیں

 

میں بھی پلٹ رہا ہوں صدائیں دیے بِنا

تُو بھی یہ فرض کر کہ مجھے جانتا نہیں

 

تجھ کو نوید ہو کہ وہ خود سر چلا گیا

جو تجھ سے کہہ رہا تھا کہ میں مانتا نہیں

 

کم بخت ایک دل ہی تو ہے ، ٹوٹ جائیگا

کب تیرا اعتبار ہے جو ٹوٹتا نہیں

 

مجھ کو قبول ہے جو سزا ہے گمان میں

وہ کچھ بھی ہے قبول جو تُو سوچتا نہیں

 

مجھ کو وداع کرو کہ وہاں جا رہا ہوں میں

جس دشتِ بے اماں سے کوئی لوٹتا نہیں

 

اُبھری غزل کے رُوپ میں اک چیخ آخرش

تجھ کو بڑا گلہ تھا کہ میں بولتا نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ