اگر سزا ہے مقدر تو کیا جزا کی طلب!

اگر سزا ہے مقدر تو کیا جزا کی طلب

گزر گیا ہے ہماری نجات کا موسم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ھر چیز مُشترک تھی ھماری سوائے نام
رستے میں مجھ کو مل گیا یونہی گرا پڑا
دل بضد تھا کہ مجھے غم سے پِگھل جانے دے
آئینہ ٹوٹ جائے گا اور پھر
سنا ہے پھر سے محبت کےا متحاں ہوں گے
کٹا تھا روز مصیبت خدا خدا کر کے
بولے تو سہی ، جھوٹ ہی بولے وہ بلا سے
الجھتی جاتی ہیں گرہیں ادھورے لفظوں کی
یہ بھی ممکن ہے سنبھلتا نہ ہو دستار کا بوجھ
زندگی جتنی بھی دکھی ہو عدم

اشتہارات