اردوئے معلیٰ

اگر نبی کے غلاموں میں نام ہو جائے

زمانے بھر میں مرا احترام ہو جائے

 

نصیب میرا بھی چمکائیے مرے آقا

”سلام کے لیے حاضر غلام ہو جائے“

 

لبوں پہ میرے ثناے نبی رہے ہر دم

وظیفہ میرا درود و سلام ہو جائے

 

نمازِ عشق ادا ہو مری مدینے میں

وہیں پہ دائمی میرا قیام ہو جائے

 

کبھی نہ لوٹ کے آؤں شہا مدینے سے

مری یہ عمر وہیں پر تمام ہو جائے

 

فراق و ہجر مدینہ سے قلب گھائل ہے

وصال طیبہ کے مرہم سے کام ہو جائے

 

سوائے اشکِ ندامت کے پاس کچھ بھی نہیں

قبول تحفہ یہ عالی مقام ہو جائے

 

بہار پر بھی یقیناً بہار آئے گی

مرے حضور کا گر ابتسام ہو جائے

 

قمرؔ کو حضرتِ حسان کا ملے صدقہ

سخن جو خام ہے اس کا وہ تام ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات