ایسا بھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے​

 

ایسا بھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے​

جس میں حبیبِ پاک کا چہرہ دکھائی دے​

 

ہر شئے میں مصطفی کا ہی جلوہ دکھائی دے​

انوارِ ایزدی کا سراپا دکھائی دے​

 

آنکھوں کو میری وصف وہ کردے عطا خدا​

کعبہ دکھائی دے کبھی طیبہ دکھائی دے​

 

طیبہ میں دفن ہوں تو مجھے خلد میں فداؔ​

ان کے قریب اپنا ٹھکانہ دکھائی دے​

 

رو رو کے کر رہا ہے فداؔ بس یہی دعا​

یارب سفر مدینے کا ہوتا دکھائی دے​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو
سمایا ہے نگاہوں میں رُخِ انور پیمبر کا
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سکونِ قلب و نظر تھا بڑے قرار میں تھے
خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

اشتہارات