اردوئے معلیٰ

ایسا بھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے​

 

ایسا بھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے​

جس میں حبیبِ پاک کا چہرہ دکھائی دے​

 

ہر شئے میں مصطفی کا ہی جلوہ دکھائی دے​

انوارِ ایزدی کا سراپا دکھائی دے​

 

آنکھوں کو میری وصف وہ کردے عطا خدا​

کعبہ دکھائی دے کبھی طیبہ دکھائی دے​

 

طیبہ میں دفن ہوں تو مجھے خلد میں فداؔ​

ان کے قریب اپنا ٹھکانہ دکھائی دے​

 

رو رو کے کر رہا ہے فداؔ بس یہی دعا​

یارب سفر مدینے کا ہوتا دکھائی دے​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ