ایسی ادا سے آج تُو عشق کو انقلاب دے

ایسی ادا سے آج تُو عشق کو انقلاب دے

رخ سے اٹھا نقاب کو، حسن کو آب و تاب دے

 

عقل ہوئی ہے حکمراں، محفلِ کائنات کی

عقل کو بد حواس کر، قلب کو اضطراب دے

 

اٹھتے ہیں میرے قلب سے، تیرے شرارِ عشق اب

میرے چراغِ ماند کو رونقِ آفتاب دے

 

خاکِ وجود خشک ہے، بحرِ شعور خشک ہے

روحِ وجود ایک بار جلوہِ بے حجاب دے

 

حافظِؔ عشق باز کے قلب کو کیوں سکوں ملے

لحظہ بہ لحظہ اک نیا زلف کو پیچ و تاب دے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھے چاہیے مرے مصطفیٰ ترا پیار، پیار کے شہر کا
معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
مدحتِ مصطفیٰ گنگنانے کے بعد
یہ جُود و کرم آپؐ کا ہے، فیض و عطا ہے
ہم درِ مصطفیؐ پہ جائیں گے
مرے گھر کا جو دروازہ کھلا ہے
فراق و ہجر کا دورانیہ ہو مختصر، آقاؐ
آتی ہے رات دن اک آواز یہ حرم سے
اک نور سے مطلعِ انوار مدینہ