اردوئے معلیٰ

Search

ایسی ادا سے آج تُو عشق کو انقلاب دے

رخ سے اٹھا نقاب کو، حسن کو آب و تاب دے

 

عقل ہوئی ہے حکمراں، محفلِ کائنات کی

عقل کو بد حواس کر، قلب کو اضطراب دے

 

اٹھتے ہیں میرے قلب سے، تیرے شرارِ عشق اب

میرے چراغِ ماند کو رونقِ آفتاب دے

 

خاکِ وجود خشک ہے، بحرِ شعور خشک ہے

روحِ وجود ایک بار جلوہِ بے حجاب دے

 

حافظِؔ عشق باز کے قلب کو کیوں سکوں ملے

لحظہ بہ لحظہ اک نیا زلف کو پیچ و تاب دے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ