ایسی ہی برسات ہوئی تھی جب اپنا گھر بیٹھ گیا

ایسی ہی برسات ہوئی تھی جب اپنا گھر بیٹھ گیا

تب سے جب جب بادل دیکھے ، دل میں اک ڈر بیٹھ گیا

کیسا خستہ ، کیسا شکستہ اپنی ذات کا ایواں تھا

ابھی ابھی دیوار گری تھی اور ابھی در بیٹھ گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ