ایک تہہ خانہ ھُوں مَیں اور مرا دروازہ ھے تُو

ایک تہہ خانہ ھُوں مَیں اور مرا دروازہ ھے تُو

جُز ترے کون مجھے مجھ میں رسائی دیوے

ھم کسی اور کے ھاتھوں سے نہ ھوں گے گھائل

زخم دیوے تو وھی دستِ حنائی دیوے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دکھ تماشا لگائے رکھتا ہے
خُدا کی عظمتوں کا ذکر کرنا
خدائے مہرباں کی ذاتِ باری
خداوندا کرم کا ابر برسا
خدا سایہ کُناں ہے بندگی میں
جہاں سارے بنائے ہیں خدا نے
عبادت ہو ادا کچھ اِس ادا سے
کرم کا مرحلہ پیشِ نظر ہے
خدا ہی شکم مادر میں کرے پھُولوں کی افزائش
خدا سا مہرباں تھا ہے نہ ہو گا