ایک دفعہ کا ذکر ہے ، چھت پر میں حسب معمول گئی

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، چھت پر میں حسب معمول گئی

اس کو ہنستے دیکھا اور پلکیں جھپکانا بھول گئی

 

ساری رات کی جاگی آنکھیں کھلنے سے انکاری تھیں

پوچھ نہ کیسے کام سمیٹے اور کیسے اسکول گئی

 

دونوں نے جینے مرنے کی قسمیں ساتھ اٹھائی تھیں

لڑکے کے اب دو بچے ہیں ، لڑکی چھت سے جھول گئی

 

وقت نے ایسی گرد اڑائی عمریں یونہی بیت گئیں

نہ پاوں کی خاک ہٹی اور نہ چہرے کی دھول گئی

 

عشق مسافت کرنے والوں کی ہمت پہ حیرت ہے

میں نے بس دو کوس کئے تھے میری سانس تو پھول گئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ