اِک دوانے سے بھرے شہر کو جا لگتی ہے

اِک دوانے سے بھرے شہر کو جا لگتی ہے

یہ محبت تو مجھے کوئی وبا لگتی ہے

 

روز آتی ہے میرے پاس تسلی دینے

شب تنہائی ! بتا ، تو میری کیا لگتی ہے

 

ایک فقط تو ہے جو بدلا ہے دنوں میں ورنہ

لگتے لگتے ہی زمانے کی ہوا لگتی ہے

 

آنکھ سے اشک گرا ہے سو میاں ! ہاتھ اٹھا

تارہ ٹوٹے پہ جو کی جائے دعا ، لگتی ہے

 

تیری آنکھوں کے ستاروں کے طفیل اے میرے دوست

دشت پر ہول کی ظلمت بھی ضیا لگتی ہے

 

وہ جو ملتی ہی نہیں عالم بیداری میں

آنکھ لگتے ہی میرے سینے سے آ لگتی ہے

 

بات جتنی بھی ہو بے جا مگر اے شیریں سخن

جب تیرے لب سے ادا ہو تو بجا لگتی ہے

 

سب پُجاری ہیں اُسی ایک بُتِ کافر کے

بات کڑوی ہے مگر بات خدا لگتی ہے

 

خوش گمانی کا یہ عالم ہے کہ فارس اکثر

یار کرتے ہیں جفا ، ہم کو وفا لگتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ناخداؤں کے کھُلے کیسے بھرم پانی میں
کارِ وفا محال تھا، ناکام رہ گیا
رو پڑے عرضِ حال سن کر کیا
اپنی مشکل کو یوں آسان کیا جاتا ہے
اٹھ اٹھ کے دشمنوں نے سراہا ، کمال است
حویلی والوں کی حاکمیت و شاہ زوری کا مسئلہ ہے
ہوس کا شائبہ جب خال و خد میں آئے گا
کب تلک بھیڑ میں اوروں کے سہارے چلئے
قصہ ء خوب اور خراب پہ داد
ہر گام اُس طرف سے اشارہ سفر کا تھا