اردوئے معلیٰ

Search

 

ایک فقیر چلا جاتا ہے پکی سڑک پر گاؤں کی

آگے راہ کا سناٹا ہے پیچھے گونج کھڑاؤں کی

 

آنکھوں آنکھوں ہریالی کے خواب دکھائی دینے لگے

ہم ایسے کئی جاگنے والے نیند ہوئے صحراؤں کی

 

اپنے عکس کو چھونے کی خواہش میں پرندہ ڈوب گیا

پھر لوٹ کر آئی نہیں دریا پر گھڑی دعاؤں کی

 

ڈار سے بچھڑا ہوا کبوتر شاخ سے ٹوٹا ہوا گلاب

آدھا دھوپ کا سرمایہ ہے آدھی دولت چھاؤں کی

 

اُس رستے میں پیچھے سے اتنی آوازیں آئیں جمال

ایک جگہ تو گھوم کے رہ گئی ایڑی سیدھے پاؤں کی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ