اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

ایک قطرے کو صدف میں زندگی دیتا ہے کون

ایک قطرے کو صدف میں زندگی دیتا ہے کون

بن گیا موتی اسے تابندگی دیتا ہے کون

 

آ گیا موسم خزاں کا ، موت سب کو آ گئی

مردہ پودوں کو دوبارہ زندگی دیتا ہے کون

 

بن گئی ہیں پھول سب اپنے چٹکنے کے سبب

لب پہ کلیوں کے اچانک ہی ہنسی دیتا ہے کون

 

ہ ہیں سب بے جان ان میں جان کیسے آ گئی

تال، سر، لفظ و صدا کو دلکشی دیتا ہے کون

 

کھو گیا اس کی نوا میں تو مگر یہ بھی تو دیکھ

نالۂ بلبل میں درد و نغمگی دیتا ہے کون

 

ان کی تابانی سے نظروں کو ہٹا کر یہ بھی سوچ

انجم و شمس و قمر کو روشنی دیتا ہے کون

 

اپنے شعروں پر ہے ساحلؔ کیوں تجھے اتنا غرور

سوچ کہ شاعر کو ذوقِ شاعری دیتا ہے کون

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا رب عظیم ہے تو
دُور کر دے مرے اعمال کی کالک‘ مالک!
نشاں اسی کے ہیں سب اور بے نشاں وہ ہے
مرا ستّار ہے، میرا خُدا ہے
دیکھوں جدھر بھی تیرا ہی جلوہ ہے رُو برُو
کرے انساں جو انساں سے بھلائی
خدا کے نُور سے روشن جہاں ہیں
عظیم المرتبت ربّ العلیٰ عظمت نشاں ہے
معظم ہے خدا ہی محترم ہے
مرا وردِ زباں اللہ اکبر