اردوئے معلیٰ

ایک کلک

وہ ناتواں قدموں سے
چل رہا تھا
دور سے جس نے
اسے دیکھا وہ سمجھا
جھولتا ہوا یہ شخص
نشئی ہے
ارے یہ کیا ہوا
وہ تو مر گیا ہے
اس کے گرد گھیرا
ڈالتے ہجوم میں سے
آواز آئی
 
مجھے یاد آیا
اسے میں نے صبح
گول چوک میں
سڑک کراس کرتے
اپنی گاڑی کے
نیچے آنے سے
بچایا تھا جہاں
ایک بڑے شامیانے میں
کسی خود ساختہ وی آئ پی
کے ہاتھوں خیرات کا
راشن بٹنے والا تھا
مگر یہ تو خالی ہاتھ
تھا اوہ میرے خدا
یہ کیمرے پر
اپنی عزت نفس کا
سودا نہ کر سکا
اور مر گیا
ایک اللہ کی زمین پر
ایک کلک سے ڈرنے والے
تیرے جیسے کتنے ہوں گے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ