اردوئے معلیٰ

Search

ایک ہی آن میں ، اک لمحے کے اندر چمکے

آپ کے نور سے سب نور کے پیکر چمکے

 

غیر ممکن ہے کوئی اُن کے برابر چمکے

آپ کے نقشِ کفِ پا سے جو پتھر چمکے

 

آپ نعتِ شہہِ کونین تو کہہ کر دیکھیں

کیا خبر نعت کہیں اور مقدر چمکیں

 

اپنے حصے کی ہر اک شہ نے لطافت پائی

پھول مہکے تری خوشبو سے تو گوہر چمکے

 

پرتوِ صحبتِ سرکارِ دو عالم کے طفیل

کیسے عمار و سلیمان و ابوذر چمکے

 

ایسی تمثیل زمانے میں نہیں مل سکتی

بڑھ کے شاہوں سے اُسی در کے گداگر چمکے

 

کاش مجھ کو بھی غلامی کی سند مل جائے

میں بھی اِتراؤں ، مرا نام بھی نشترؔ چمکے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ