اردوئے معلیٰ

اے تعالی اللہ قدر و اعتلائے مصطفیٰ

کون جانے مصطفیٰ کو جز خدائے مصطفیٰ

 

سارا عالم چاہتا ہے مرضیِ پروردگار

مرضیِ رب دوعالم ہے رضائے مصطفیٰ

 

رقص فرمائے اجابت ، بڑھ کے رحمت چوم لے

جب اٹھے سوئے فلک دستِ دعائے مصطفیٰ

 

طائرِ فکر و خرد پہنچے وہاں تک کیا مجال

اللہ اللہ منزل قرب دنائے مصطفیٰ

 

آسماں کی حیثیت کیا آسماں ہے راستہ

عرش اعظم پر ہیں روشن نقش پائے مصطفیٰ

 

وہ مبراء ہے مکاں سے یوں سمجھنا چاہیے

بس وہی جائے خدا ہے جو ہے جائے مصطفیٰ

 

فرش سے عرش بریں تک کیا نہیں ان کے لیے

جب خدائے مصطفیٰ ہے خود برائے مصطفیٰ

 

جنتیں آکر کریں گی اب مرے دل کا طواف

ہو گیا ہے دل مرا الفت سرائے مصطفیٰ

 

جب مجھے تڑپائے خورشید قیامت کی تپش

کاش ہو سایہ فگن سر پر ردائے مصطفیٰ

 

اپنے مرشد کے میں صدقے جس نے یہ تعلیم دی

زندہ رہنا سیکھ لو ہوکر فدائے مصطفیٰ

 

عرش دل پر صاحبان عشق رکھ لیتے مجھے

کاش ہوتا نورؔ میں بھی خاک پائے مصطفیٰ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات